
Navin, a Company Secretary by profession, is a reputed Shayar. He is known for shayari with strong expressions and fresh perspective. A favored shayar of Mushairas and Nashists, Navin’s shayari is not limited by subjects. An astute observer of life, Navin’s shayari envelopes philosophy, spirituality, human relations, feelings…. and expresses them in such a unique way that it leaves the listeners and readers pleasantly surprised.
Navin is also respected throughout the poetic world for his work on promoting young poetic talent through Inshaad Foundation, a company formed by him and looked up to by young poets throughout India for giving them that eluding opportunity which will showcase their talent to the world.
ازل کے زاویے سب زندگی سے نکلے ہیں
نہ جانے کتنے ہی غم اک خوشی سے نکلے ہیں
کمال یہ نہیں نکلے ہیں روکنے پر بھی
کمال یہ ہے کہ آنسو ہنسی سے نکلے ہیں
لگا تھا درد سبھی دشمنی سے نکلیں گے
مگر جو نکلے وہ سب دوستی سے نکلے ہیں
اسی لیے ہے مجھے کوفت آشنائی سے
میں جانتا تھا جنھیں اجنبی سے نکلے ہیں
کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے فرصتوں کے پل
مری گھڑی کے سوا ہر گھڑی سے نکلے ہیں
بھرے ہیں زخم سبھی مرہمِ محبت سے
نشانِ زخم بھی سارے اسی سے نکلے ہیں
سوال یہ ہے کہ کیونکر ‘نوا’ ہوئے گھائل
جواب یہ ہے کہ دل کی گلی سے نکلے ہیں
چشمِ زرخیز کا ہی رونا ہے
سب کو آنکھوں میں خواب بونا ہے
اتنے پانی میں ڈوب جائے گا
من کے آنگن کو بس بھگونا ہے
ایک دنیا ہے منزلِ مقصود
ایک دنیا ہے جس کو ڈھونا ہے
کسی طوفاں کو ناخدا کرکے
کسی کشتی کو پار ہونا ہے
وہ تصور بھی ہے حقیقت بھی
اس کو پانا بھی اس کو کھونا ہے
اوڑھنا کیا ہے اور بچھونا کیا
نیند آنے پہ سب کو سونا ہے
چشمِ زرخیز کا ہی رونا ہے
سب کو آنکھوں میں خواب بونا ہے
اتنے پانی میں ڈوب جائے گا
من کے آنگن کو بس بھگونا ہے
ایک دنیا ہے منزلِ مقصود
ایک دنیا ہے جس کو ڈھونا ہے
کسی طوفاں کو ناخدا کرکے
کسی کشتی کو پار ہونا ہے
وہ تصور بھی ہے حقیقت بھی
اس کو پانا بھی اس کو کھونا ہے
اوڑھنا کیا ہے اور بچھونا کیا
نیند آنے پہ سب کو سونا ہے
دل کے در پر کسی دستک کی صدا آنے سے
میں بھی کچھ دیر نکل آیا ہوں تہہ خانے سے
میری بستی پہ مسلط ہوئی تب خاموشی
جب کوئی شور اٹھا تھا مرے ویرانے سے
مجھے غیروں میں بھی اپنوں سے ملے ہیں کچھ لوگ
میرے اپنوں میں بھی کچھ لوگ ہیں بیگانے سے
کسی انجان اجالے میں انھیں جب دیکھا
میرے پہچانے بدن بھی لگے انجانے سے
چاہ کر بھی کبھی پاؤگے نہ ایسا کوئی
جو بھی چاہا ہے وہ مل جائے جسے پانے سے
بات یہ سن کے بڑی خوش ہے میری بے چینی
روح مرتی نہیں ہے جسم کے مر جانے سے
کچھ بھی ملنا نہیں ہے اور مجھے الجھا کر
نہ ہی ملنا ہے تمہیں کچھ مجھے سلجھانے سے
زندگی کا کوئی ایندھن ہے تو دیوانہ پن
مانگ لینا کبھی مجھ کو کسی دیوانے سے
پیار کی پیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
دل کی جاگیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
پھر سے مقصد کوئی درکار تھا کچھ رنگوں کا
پھر سے تصویر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
بڑی مشکل سے ملا ہے مجھے کورا کاغذ
خود کو تحریر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
میں نے بھی سیکھ لیا ہے اب اسیری کا ہنر
میں بھی زنجیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
کب سے ہونٹوں کی کماں لے کے زباں بیٹھی ہے
اور میں تیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
جو مری ڈھال بنا جنگ میں اس کی خاطر
اب میں شمشیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
میری تقدیر بنانے کے لیے بیٹھے گا
جس کی تقدیر بنانے کے لیے بیٹھا ہوں
میرے فردا میں بڑی دور تلک بنتی ہے
میری بینائی سے کہرے کی سڑک بنتی ہے
پہلے مٹی سے بناتی ہے پسینہ محنت
پھر پسینے سے ہی مٹی میں مہک بنتی ہے
معجزہ ہوں میں مجھے دھوپ میں رکھ کر تو دیکھ
مجھ سے گزرے تو شعاؤں سے دھنک بنتی ہے
تیری یادوں سے ہی چلتا ہے پتہ دھڑکن کا
تیری یادوں سے ہی دھڑکن میں کسک بنتی ہے
چاہے سچی ہو یا جھوٹی کوئی امید بنا
اسی امید سے جینے کی للک بنتی ہے
میرے چہرے سے ہی بنتا ہے ترا چہرہ گر
میرے شیشے میں تری ایک جھلک بنتی ہے
قسمت دیر نہیں کرتی ہے جن کو دریا دینے میں
اکثر دیر لگاتی ہے وہ اس کو تنکا دینے میں
اپنی مرضی سے مت جانا تو کھائی کے کنارے تک
وقت کے ہاتھ نہیں کاپیں گے تجھ کو دھکا دینے میں
تجھ کو تجوری میں رکھنے کا مجھ کو کوئی شوق نہیں
مجھ کو خرچ نہیں ہونا ہے تجھ پر پہرا دینے میں
تو نے کم مانگا ہے مجھ کو لیکن میری بھی تو سوچ
پورا ختم نہ ہو جاؤں میں تھوڑا تھوڑا دینے میں
سب کو رستہ مل جانے دے ان کی منزل کا بھگوان
مجھ کو منزل مل جانے دے سب کو رستہ دینے میں
اے جنوں اتنا تو کر وقت عطا کم از کم
کر سکوں تجھ میں اضافے کی دعا کم از کم
اپنے رہنے کے لیے کچھ تو جگہ کر مجھ میں
گر ہٹانی نہیں دنیا تو گھٹا کم از کم
کوئی الزام تو ثابت نہیں کر پایا تو
کیا سزا سوچ کے رکھی تھی بتا کم از کم
غم گساری کے فرائض تو سمجھ لے پہلے
تیرے چہرے پہ خوشی ہے وہ چھپا کم از کم
تیری تصویر بنانے میں مدد کر اس کی
اس مصور کے لیے رنگ بنا کم از کم
میں اگر کھیل ہوں تو کھیلنے کی کوشش کر
میں تماشا ہوں تو پھر دیکھنے آ کم از کم
تیرا جانا ہو اگر یاد کے میخانے میں
تو میرے نام کا ایک جام اٹھا کم از کم
جانے کب سے ہے تو مہمان میری آنکھوں کا
تیری آنکھوں کو مِرے خواب دکھا کم از کم
تجھ کو لڑنا ترے دشمن نے سکھایا تھا ‘نوا’
اس کی تربت پہ کچھ آنسو تو بہا کم از کم